خواب نگری

KHAWABNAGRI.COM

انسان، رشتے و اعضاء

خواب میں خوف دلانے یا خوفزدہ ہونے کی تعبیر

تجدید شدہ:

بنیادی تعبیر

علامہ ابن سیرینؒ اور علامی عبدالغنی نابلسیؒ دونوں سے منسوب تعبیری ماخذوں میں خوف دلانے اور خود خوف محسوس کرنے کی الگ الگ تعبیریں بیان ہوئی ہیں۔ نابلسیؒ سے منسوب تعبیر میں خوف دلانا مرض، غم یا بڑھاپے سے ڈرانے سے متعلق ہے، جبکہ بعض صورتوں میں یہ مریض کی شفایابی، مزاج کی تیزی اور قوت و توانائی کے ظاہر ہونے کی علامت بھی ہے۔ ابن سیرینؒ سے منسوب ماخذ میں خواب کے اندر خوف محسوس کرنا بیداری میں امن، توبہ اور خوشی سے تعبیر ہوا ہے، جبکہ خوف سے بھاگنے، خوفِ خدا، کسی چیز سے خوفزدہ ہونے اور خوف سے مرنے کی الگ الگ تعبیریں بھی بیان ہوئی ہیں۔

فوری خلاصہ

خوف دلانا: علامہ نابلسیؒ سے منسوب تعبیر میں مرض، غم یا بڑھاپے سے ڈرانے سے متعلق ہے۔

مریض کے لیے خوف دلانا: شفایابی، مزاج کی تیزی اور قوت و توانائی کا ظاہر ہونا۔

خوف محسوس کرنا: ابن سیرینؒ سے منسوب ماخذ میں بیداری کے امن، توبہ اور خوشی سے تعبیر ہوا ہے۔

خوف سے بھاگنا: غلبہ حاصل کرنے کی علامت ہے، جبکہ خوف کے ساتھ جنگ کا انتظار کرنا جنگ میں شریک ہونے سے متعلق ہے۔

خوفِ خدا: دنیاوی خوف دور ہونے، حقیقی عقیدت اور اللہ تعالیٰ کے مسلسل ذکر سے متعلق ہے۔

خوف سے مرنا: لوگوں کے حقوق ادا نہ کرنے سے متعلق ہے، خصوصاً کسی انسان یا اپنے برے عمل سے خوف کی صورت میں۔

مختلف صورتیں

مختلف احوال و کیفیات کی تعبیر

مرض، غم اور بڑھاپے کی تنبیہ

خواب میں کسی کو یا خود کو خوف دلاتے ہوئے دیکھنا اس بات کا اشارہ ہے کہ انسان کو کسی لاحق ہونے والی بیماری، غم و اندوہ، یا بڑھاپے کی کمزوریوں اور تکالیف سے ڈرایا اور متنبہ کیا جا رہا ہے۔

مریض کے لیے شفا اور توانائی کی نوید

اگر کوئی بیمار شخص یہ خواب دیکھے کہ کوئی اسے خوفزدہ کر رہا ہے تو اس کی تعبیر اس کے حق میں مثبت ہے۔ علامہ نابلسیؒ سے منسوب تعبیر میں خوف دلانا بعض صورتوں میں مریض کی شفایابی، اس کے مزاج کی تیزی اور قوت و توانائی کے ظاہر ہونے کی علامت بھی ہے۔

محنت اور تگ و دو

علامہ عبدالغنی نابلسیؒ سے منسوب ماخذ میں أرعد فلان (کسی کا ڈرانا) کے لفظی استعمال کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بھی بیان ہوا ہے کہ یہ تعبیر اس وقت کہی جاتی ہے جب کوئی شخص کسی مقصد یا کام کے لیے محنت یا جدوجہد کرتا ہے۔ اس مناسبت سے یہ خواب زندگی میں بھرپور محنت اور کوشش کی علامت بھی بنتا ہے۔

خوف کا برعکس نتیجہ (امن اور مسرت)

علامہ ابن سیرینؒ سے منسوب ماخذ کے مطابق خواب میں خوف درحقیقت بیداری کی زندگی میں امن اور توبہ کی نمائندگی کرتا ہے۔ خوف محسوس کرنے کی ایک تعبیر جاگتی زندگی خوشی اور قلبی اطمینان سے بھی کی گئی ہے۔ ماخذ کے مطابق جو شخص یا چیز خواب میں ڈر کا باعث بنے، وہ نقصان اور نفرت کی علامت ہوتی ہے۔

خوف کے مارے بھاگنا

اگر کوئی شخص خواب میں خوفزدہ ہو کر راہِ فرار اختیار کرے، تو ابن سیرین سے منسوب ماخذ کے مطابق اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ بیداری میں اپنے دشمنوں اور مدِ مقابل افراد پر غلبہ یا بالا دستی حاصل کرے گا۔

خوف کے ساتھ جنگ کا انتظار

امام ابن سیرینؒ سے منسوب تعبیر کے مطابق اگر کوئی شخص خواب میں خوف کے ساتھ جنگ کا انتظار کر رہا ہو تو اسے جنگ میں شریک ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے۔

غیبی آواز کا تسلی دینا

اگر خوف کی کیفیت میں کوئی آواز اسے تسلی دیتے ہوئے یہ کہے کہ "خوف مت کھاؤ، تم مرو گے نہیں مگر اس زندگی کو جھیل بھی نہ سکو گے"، تو ابن سیرین سے منسوب ماخذ کے مطابق یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ شخص اپنی بینائی سے محروم (اندھا) ہو سکتا ہے۔

تقویٰ اور خوفِ خدا

اگر کوئی شخص خواب میں خود کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا پائے تو ابن سیرینؒ سے منسوب ماخذ میں اس کے دنیاوی خوف دور ہونے، حقیقی عقیدت پیدا ہونے اور اپنے رب کے مسلسل ذکر سے وابستہ ہونے کی تعبیر بیان ہوئی ہے۔

خوف سے موت واقع ہونا

اگر کوئی شخص خواب میں خوف کی شدت سے مر جائے، تو یہ ایک تنبیہ ہے۔ علامہ ابن سیرینؒ سے منسوب ماخذ اسے لوگوں کے حقوق ادا نہ کرنے سے تعبیر کرتا ہے، خصوصاً اگر وہ شخص کسی انسان سے یا اپنے ہی برے اعمال سے خوفزدہ ہو۔

ماخذ

Ibn Seerin's Dictionary of Dreams — Fear — Page 155

تعطير الأنام في تعبير المنام (الجُزءُ الأوّل) — إرعاد — Page 35

یاد رہے: خواب کی تعبیر قطعی علم نہیں۔ ایک خواب کی تعبیر حالات اور سیاق کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے اہم فیصلے صرف خواب کی بنیاد پر نہ کریں۔