خواب نگری

KHAWABNAGRI.COM

قدرتی عناصر و موسم

خواب میں آواز اور جانوروں کی بولیوں کی تعبیر

تجدید شدہ:

بنیادی تعبیر

خواب میں آواز بنیادی طور پر انسان کی شہرت، نیک یا بد نامی، ذکرِ خیر اور اس کے ذہنی و جسمانی احوال کی عکاسی کرتی ہے۔ کسی انسان کی آواز سننا ولایت یا اہم منصب و ذمہ داری سنبھالنے کی نوید ہے، جبکہ حیوان کے منہ سے انسان جیسی زبان میں پسندیدہ یا سچی بات کرتے سننا بڑا فائدہ حاصل ہونے کی علامت ہے۔ اپنی آواز کو بلند کرنا کسی برائی یا ظلم کے تحت لوگوں پر تسلط قائم کرنے، اور کسی عالم یا استاد سے زیادہ بلند آواز میں بولنا گناہ کے ارتکاب کی تعبیر رکھتا ہے۔ اس کے برعکس کمزور آواز خوف جبکہ جان بوجھ کر آواز پست کرنا عاجزی یا کسی کا مقروض ہونے کی علامت ہے، البتہ پولیس و اربابِ اقتدار کی آواز کا کمزور ہونا ان کی معزولی اور تنزلی کی تنبیہ ہے۔ سکوں کی جھنکار نفع و نقصان، فتنوں یا خوش کن و ناگوار خبروں کی نمائندہ ہے۔ جانوروں کی بولیاں عام طور پر تفکرات، خطرات اور خبروں کی مظہر ہوتی ہیں؛ جہاں ہر خوشگوار اور مانوس آواز خوشی و مسرت لاتی ہے، وہیں ہر ناگوار اور بھیانک آواز غم، اندوہ اور مصیبت کی دلیل بنتی ہے۔

فوری خلاصہ

انسانی آواز اور شہرت: معاشرے میں انسان کا چرچا، شہرت اور اس کی صحت و ذہنی کیفیت کا عکس۔

بلند آواز میں بولنا: ہجوم پر ناحق تسلط، یا عالم و استاد سے زیادہ بلند آواز میں بولنے پر گناہ کا ارتکاب۔

پست یا کمزور آواز: عاجزی، انکسار، خوف یا قرض داری؛ حکمرانوں کے حق میں معزولی۔

جانور کا انسانی آواز میں کلام: اگر کلام حق اور پسندیدہ ہو تو کثیر اور غیر متوقع منافع کا حصول۔

سکوں کی جھنکار: خوش کن خبریں، وعدہ وفائی یا صرافوں کے مابین جھگڑا؛ پیسوں کی آواز سے تکلیف دہ خبریں۔

جانوروں کی آوازیں: خوشگوار اور مانوس آوازیں خوشی و مسرت، جبکہ ناگوار اور بھیانک آوازیں غم، اندوہ اور مصیبت کی علامت۔

مختلف صورتیں

مختلف احوال و کیفیات کی تعبیر

انسانی آواز کا سننا

خواب میں انسان کی آواز اس کی شہرت، بیداری میں اس کے نام کی گونج اور اس کے اثر و رسوخ کی علامت ہے۔ کسی انسان کی آواز سننا یہ ظاہر کرتا ہے کہ خواب دیکھنے والے کو کوئی اہم انتظامی منصب، ذمہ داری یا ولایت سونپی جائے گی۔

بلند آواز

اگر کوئی شخص خواب میں دیکھے کہ وہ بلند آواز میں بات کر رہا ہے، تو وہ لوگوں کے کسی گروہ پر برائی یا ظلم کے ساتھ غالب آنے کی کوشش کرے گا۔ اگر کسی نے خواب میں کسی عالم، شیخ یا استاد کی آواز سے اپنی آواز کو زیادہ بلند کیا، تو یہ اس بات کی تنبیہ ہے کہ وہ کسی گناہ یا نافرمانی کا ارتکاب کرے گا۔

پست و کمزور آواز

امام ابن سیرین ؒ سے منسوب ماخذ میں اپنی آواز کو جان بوجھ کر دھیما کرنا تواضع، خاکساری اور عاجزی کی علامت ہے، یا یہ کسی انسان کے مقروض ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ علامہ نابلسیؒ نے کمزور آواز کو کسی خوف یا ڈر سے منسوب کیا ہے۔

اگر کوئی حاکم، پولیس اہلکار یا بااختیار شخص خواب میں اپنی آواز کو کمزور یا مدہم پائے، تو یہ اس کے منصب سے برطرف ہونے، معزول کیے جانے، یا بدعملی پر سرزنش اور تادیبی کارروائی کا اشارہ ہے۔

جانور کا انسانی زبان میں بولنا

اگر کسی جانور کے منہ سے انسانی کلام سنائی دے اور وہ بات سچی، حق اور دل کو بھانے والی ہو، تو خواب دیکھنے والے کو خیر، منفعت اور بے شمار فوائد حاصل ہوں گے۔

درہم اور دینار کی آواز

علامہ نابلسیؒ سے منسوب ماخذ میں درہم کی آواز وعدہ پورا ہونے، دینار کی آواز خوش کن خبر، جبکہ عام پیسوں کی آواز تکلیف دہ خبر کی علامت ہے۔ بعض تعبیرات میں دراہم اور دنانیر کی آواز خوبصورت کلام کی علامت بھی ہے۔

سکوں کی جھنکار

امام ابن سیرینؒ سے منسوب ماخذ کے مطابق خواب میں سکوں کی جھنکار فتنہ یا صرافوں اور مال کے لین دین سے وابستہ افراد کے درمیان جھگڑے کی علامت ہے۔ اگر سکے دوستی کی علامت یا مہر کے طور پر دیے جائیں اور ان سے جھنکار پیدا ہو تو اس کی تعبیر اچھی یا بری خبر، حکمت بھری بات یا پسندیدہ کلام سے کی گئی ہے۔ لیکن اگر خواب میں سکوں کی جھنکار مذاق کے طور پر یا کسی کو بلاوجہ تنگ کرنے کی نیت سے پیدا کی جائے تو اس کی تعبیر ایسے جھگڑے سے کی گئی ہے جسے ختم کرنا مقصود نہ ہو۔

بکری یا بھیڑ کی آواز

علامہ عبدالغنی النابلسیؒ کے مطابق بکری کی آواز کسی سخی، مہربان مرد کی طرف سے اچھے سلوک کی علامت ہے، جبکہ امام ابن سیرینؒ سے منسوب ماخذ میں بیوی یا خاتون کی طرف سے عمدہ سلوک اور بھلائی کی نشانی ہے۔ دنبے یا چھوٹی بکری کی آواز سرور، دلی خوشی، خیر اور فراخیِ رزق سے تعبیر ہے۔

بیل، بچھڑے یا گائے کی آواز

خواب میں گائے، بیل یا بچھڑے کی آواز یا پکار سننا ہنگامہ آرائی، بدامنی یا فتنے میں پڑنے کا خطرہ ظاہر کرتی ہے۔

اونٹ کی آواز

خواب میں اونٹ کی آواز یا اس کا گڑگڑانا کسی بڑے اور بابرکت سفر کی علامت ہے۔ اس سفر کو فریضۂ حج کی ادائیگی، جہاد کی راہ یا نفع بخش تجارتی سفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس خواب کی ایک تعبیر شدید محنت و مشقت کا سامنا کرنے سے بھی کی گئی ہے۔

گھوڑے کی آواز

خواب میں گھوڑے کی ہنہناہٹ سننا علامہ نابلسیؒ کے مطابق کسی شریف، معزز انسان یا بہادر سپاہی کی طرف سے تحفہ ملنے کی دلیل ہے۔ امام ابن سیرین ؒ سے منسوب ماخذ میں کسی عظیم شخص سے رہنمائی ملنے، بہادر سپاہی کی نمائندگی اور لشکر کشی یا غلبہ و شوکت پانے کی نشانی ہے۔

گدھے یا خچر کی آواز

امام ابن سیرینؒ اور علامہ نابلسی ؒ سے منسوب تعبیرات کے مطابق خواب میں گدھے کا رینکنا یا اس کی آواز بدصورت، گھٹیا اور ذلیل دشمن کی نمائندگی کرتی ہے۔ گدھے کی آواز کی دوسری تعبیر دشمنوں پر لعنت بھیجنے یا ان کے خلاف بددعا کرنے سے بھی کی گئی ہے۔

خواب میں خچر کی آواز کسی سخت گیر انسان سے واسطہ پڑنے، مشقت جھیلنے، بے فائدہ گفتگو سننے، یا مشتبہ معاملات میں الجھنے کی علامت ہے۔

شیر کی آواز

علامہ نابلسیؒ نے خواب میں شیر کی دھاڑ سننے کو ظالم و طاقتور حکمران سے خوف، دھمکی، ہیبت، یا سراسیمگی اور تشویش کا شکار ہونے سے تعبیر کیا ہے۔ امام ابن سیرین ؒ سے منسوب ماخذ میں شیر کی دھاڑ بااختیار شخص سے خطرےاور شیخی بگھارنے کی علامت ہے۔

کتے کی آواز

امام ابن سیرین ؒ اور علامہ نابلسیؒ سے منسوب تعبیرات کے مطابق خواب میں کتے کا بھونکنا لایعنی گفتگو، دوسروں کے معاملات میں دخل اندازی، گناہ، ندامت، نافرمانی، دشمنی، دوسروں کو نقصان پہنچانے کے ارادے یا اختلاف کی علامت ہے۔

چیتے یا جنگلی بلی کی آواز

خواب میں چیتے کی غراہٹ بیداری کی زندگی میں بے باکی، تکبر، ناز اور غرور کی نمائندگی کرتی ہے؛ جبکہ جنگلی بلی (Lynx) کی آواز کسی غیر مستقل مزاج اور حریص شخص کی جھوٹی تسلی اور اس سے فائدہ اٹھانے کا اشارہ ہے۔

بھیڑیا یا گیدڑ کی آواز

خواب میں بھیڑیے کی آواز چوری ہونے یا ظالم ڈاکو سے ڈرنے کی تنبیہ ہے؛ جبکہ گیدڑ کا چیخنا نیکی و بدی سے متعلق کام، بے بس عورتوں کا مدد کے لیے پکارنا یا ناامید لوگوں کی فریاد ہے۔

لومڑی اور خنزیر کی آواز

خواب میں لومڑی کا چیخنا ہجرت کرنے، فرار ہونے کی تنبیہ، یا جھوٹے شخص کے بغض و حسد اور دھوکے کا شکار ہونا ہے۔ خنزیر کی آواز بیوقوف، احمق مگر مالدار دشمنوں پر فتح پانے اور ان کا مال چھیننے کی دلیل ہے۔

کبوتر یا ابابیل کی آواز

امام ابن سیرین ؒ اورعلامہ نابلسیؒ سے منسوب ماخذ میں کبوتر کی غٹرغوں نوحہ بازی، نکاح یا کسی پردہ دار اور قاریہ عورت کی طرف اشارہ کرتی ہے؛ جبکہ ابابیل کی چہچہاہٹ قرآنِ مجید سننے، واعظ کی نصیحت اور فائدہ مند کلام پانے کی دلیل ہے۔

کوا اور شتر مرغ کی آواز

خواب میں کوے کی کائیں کائیں جدائی، فراق یا کسی کی موت کی خبر کا پیش خیمہ مانی جاتی ہے؛ اور شتر مرغ کی آواز کسی نئے بااعتماد اور بہادر ملازم یا خادم کو ملازم رکھنے کی علامت ہے۔

مینڈک یا سانپ کی آواز

علامہ نابلسیؒ کے مطابق مینڈک کا ٹرانا یا اس کی آواز گانے، چوکیدار کی آواز، کسی عالم کے کام میں مداخلت یا قبیح کلام کی علامت ہے۔ امام ابن سیرینؒ سے منسوب ماخذ میں اس کی تعبیر گھنٹیوں کی آواز، بہت زیادہ خوشی، استاد کی ملازمت، قیادت حاصل ہونے یا کسی کی طرف سے سخت الفاظ سننے سے بھی کی گئی ہے۔

سانپ کی پھنکار چھپے ہوئے دشمن کی طرف سے لڑائی اور دھمکی کی علامت ہے۔ علامہ نابلسیؒ کے مطابق خواب میں سانپ کی پھنکار سننا دشمن کی طرف سے کسی زیادتی کی دلیل ہے۔

بلی، چوہا، ہرن اور بھڑ کی آواز

خواب میں بلی کی میاؤں غیبت، نکتہ چینی اور عیب جوئی کی نمائندگی کرتی ہے۔ چوہے کی آواز الفت، اجتماع اور رزق پانے کی علامت کے ساتھ نقب زن چور سے نقصان اٹھانے سے بھی تعبیر ہے۔ ہرن کی آواز وطن کی یاد اور پردیس کے احساس کو ظاہر کرتی ہے؛ اور بھڑ کی بھنبھناہٹ دوسروں کو بدنام کرنے والے شخص کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کا شر اسی جیسے دوسرے شخص کی مدد کے بغیر ختم نہ کیا جا سکے۔

خوشگوار اور ناگوار آوازیں

علامہ نابلسیؒ نے خواب میں پانی کے بہنے، مور اور مرغی کی آوازوں کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے اور اسے غم اور صدمے کی دلیل بتایا ہے۔ آوازوں سے متعلق خواب کا عمومی اصول یہ ہے کہ ہر وہ آواز جو سننے میں کرخت، بری اور ناگوار گزرے وہ غم، رنج اور الم کا پیغام ہے؛ جبکہ ہرخوشگوار اور دل کو بھانے والی آواز سرور، خوشی اور راحت کی علامت ہے۔

ماخذ

تعطير الأنام في تعبير المنام (الجُزءُ الثَّاني) — الصوت — Page 38

Ibn Seerin's Dictionary of Dreams — Voice — Page 462- 463

متعلقہ تعبیرات

مزید متعلقہ خواب

یاد رہے: خواب کی تعبیر قطعی علم نہیں۔ ایک خواب کی تعبیر حالات اور سیاق کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے اہم فیصلے صرف خواب کی بنیاد پر نہ کریں۔