خواب نگری

KHAWABNAGRI.COM

انسان، رشتے و اعضاء

خواب میں غلام بننے، فروخت یا آزاد ہونے کی تعبیر

تجدید شدہ:

بنیادی تعبیر

خواب میں غلام بننا قرض، پریشانی، کسی کی خدمت یا اس کے زیرِ اثر آنے کی علامت ہوسکتا ہے۔ ایک آزاد انسان کا خود کو غلام دیکھنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ قرضوں کے بوجھ تلے دب کر قرض خواہوں کا محتاج ہو جائے گا یا ان کے پاس مزدوری کرے گا، یا پھر وہ بیداری میں کسی پر احسان کر کے اسے اپنا گرویدہ و غلام بنا لے گا۔۔ غلام کے طور پر فروخت ہونا عزت، خیر، دھوکے یا ذلت کی مختلف تعبیرات رکھتا ہے۔ غلام کا خود کو آزاد دیکھنا مشکلات کے بعد آسانی، قرض کی ادائیگی، بیماری سے شفا، مقاصد کے حصول یا اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی علامت ہے۔ غیر شادی شدہ عورت کا باندی بننا یا فروخت ہونا شادی، مرد کا اپنی بیوی کو فروخت کرنا طلاق، اور دشمن کا غلام بننا مغلوبیت کی تعبیر رکھتا ہے۔

فوری خلاصہ

آزاد شخص کا غلام بننا: قرضوں کے بوجھ تلے دبنا، محتاجی، یا فکر و پریشانی میں مبتلا ہونا۔

غلام کی آزادی: تنگی کے بعد آسانی، قرض کی ادائیگی، بیماری سے شفا، مقاصد کا حصول یا اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری۔

غلام کے طور پر فروخت ہونا: عزت و رفعت، قصۂ یوسفؑ کی مناسبت سے خیر، یا دھوکے اور ذلت کی متبادل تعبیرات۔

عورت یا بیوی کا خریدار ہونا: عزت افزائی، اچھے سلوک اور قدر و منزلت ملنے کی دلیل۔

بے خاوند عورت کا باندی بننا: شادی کی علامت؛ غیر شادی شدہ عورت کے فروخت ہونے پر خریدار سے نکاح کی تعبیر۔

بیوی کو فروخت کرنا: طلاق کی علامت۔

دشمن کا غلام بننا: مغلوب ہونا، ہزیمت اٹھانا اور ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا۔

مختلف صورتیں

مختلف احوال و کیفیات کی تعبیر

آزاد شخص کا غلام بننا

اگر کوئی آزاد شخص خواب میں خود کو غلام بنے دیکھے، تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اس قدر قرض لے گا کہ قرض خواہوں کے سامنے بے بس ہو کر ان کا محتاج یا قرض و سود کی ادائیگی کے لیے ان کے ہاں مزدور بن کر رہے گا۔ اگر خواب دیکھنے والا اس شخص کو پہچانتا ہو جس نے اسے غلام بنایا ہے، تو اس کی ایک تعبیر یہ بھی ہے کہ وہ بیداری میں اپنے کسی احسان و سلوک کے ذریعے اس شخص کو اپنے زیرِ اثر لے آئے گا۔

امام ابن سیرینؒ سے منسوب ماخذ کی رو سے یہ خواب پریشانیوں، کاروبار کی ازسرِ نو ترتیب، یا دل کے عارضے اور کمزور کرنے والی بیماری کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ علامہ عبدالغنی النابلسیؒ کے مطابق بھی خواب کے اندر غلام ہونا فکر و غم کی علامت ہے۔

غلام کے طور پر فروخت ہونا

علامہ نابلسیؒ سے منسوب ماخذ میں اگر کوئی شخص خواب میں دیکھے کہ اس کا آقا اسے فروخت کر رہا ہے، تو حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے کے پیش نظر اس کا انجام خیر پر ہوگا اور وہ عزت و رفعت پائے اور باوقار مقام حاصل کرے گا۔

دوسری جانب چونکہ آزاد انسان کا فروخت ہونا بظاہر اس کی توقیر کو مجروح کرتا ہے، اس لیے اس خواب کی دوسری تعبیر کسی جال، دھوکے یا وقتی تنگی و ذلت میں مبتلا ہونا بھی ہے۔

خریدار عورت یا بیوی کا ہونا

اگر خواب میں بکنے والے کا سودا ہو رہا ہو اور خریدار کوئی عورت یا اس کی اپنی بیوی ہو، تو یہ تنگی کے بجائے اس کے لیے عزت، توقیر اور بہترین سلوک کی نوید ہے۔ خواب میں اس کی جتنی زیادہ قیمت لگائی جائے گی، بیداری میں اس کی عزت اور آسائش اسی قدر زیادہ ہوگی۔

غلام کی آزادی

اگر کوئی غلام خود کو آزاد ہوتے دیکھے، تو دونوں مراجع میں اس کی تعبیر اپنے مقاصد میں کامیابی، مشکلات اور تنگی کے بعد آسانی، قرض کی ادائیگی یا بیماری سے شفا سے کی گئی ہے۔ غلام کے آزاد ہونے کی ایک تعبیر خواب دیکھنے والے کا اللہ تعالیٰ کا سچا بندہ بننا بھی ہے، جو نیکی کا حکم دے، برائی سے روکے، نماز قائم کرے، صدقہ و خیرات ادا کرے اور غلط کاموں سے ڈرے۔

باندی بننا

علامہ نابلسیؒ کے مطابق اگر کوئی ایسی عورت جس کا خاوند نہ ہو، دیکھے کہ وہ باندی بن گئی ہے، تو اس کی تعبیر یہ ہے کہ وہ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگی۔ امام ابن سیرینؒ سے منسوب ماخذ میں اگر کوئی غیر شادی شدہ عورت خود کو باندی کے طور پر فروخت ہوتے دیکھے تو اس کی شادی اسی سے ہوگی جس نے اسے خریدا۔

دوسری طرف اگر کوئی شادی شدہ مرد خواب میں اپنی بیوی کو بازار میں بیچ رہا ہو، تو یہ زوجین میں علیحدگی اور طلاق واقع ہونے سے تعبیر کیا گیا ہے۔

دشمن کی غلامی میں آنا

علامہ نابلسیؒ کے مطابق اگر کوئی شخص خواب میں دیکھے کہ اسے اس کے دشمن نے قید کر کے غلام بنا لیا ہے، تو وہ بیداری میں اپنے مخالفین کے ہاتھوں مغلوب اور ذلیل ہوگا۔ امام ابن سیرینؒ سے منسوب ماخذ میں اس کی تعبیر اس قید یا غلامی سے ذلت اور تابع داری کا سبق حاصل ہونے سے کی گئی ہے۔

ماخذ

تعطير الأنام في تعبير المنام (الجُزءُ الثَّاني) — العبد — Page 84

Ibn Seerin's Dictionary of Dreams — Slave — Page 394

متعلقہ تعبیرات

مزید متعلقہ خواب

یاد رہے: خواب کی تعبیر قطعی علم نہیں۔ ایک خواب کی تعبیر حالات اور سیاق کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے اہم فیصلے صرف خواب کی بنیاد پر نہ کریں۔