خواب نگری

KHAWABNAGRI.COM

کھانے پینے کی اشیاء

خواب میں چیونگم چبانے کی تعبیر

تجدید شدہ:

بنیادی تعبیر

ابن سیرین سے منسوب تعبیرات میں خواب کے اندر چیونگم چبانا بنیادی طور پر قبیح اور ناپسندیدہ گناہوں کے ارتکاب یا قومِ لوط کے فعل (لواطت) میں مبتلا ہونے کی تعبیر رکھتا ہے۔ ماخذ اس تعبیر کی وجہ یہ بیان کرتا ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم گوند یا چیونگم چبایا کرتی تھی۔ اس کے علاوہ خواب میں خود کو چیونگم چباتے ہوئے دیکھنے کی تعبیر حد سے زیادہ بولنے، بلاوجہ مسلسل گلہ شکوہ کرنے، کسی بڑے تنازع یا جھگڑے میں الجھنے، یا لمبی بحث و تکرار کو جاری رکھنے سے بھی دی گئی ہے۔ بعض صورتوں میں اس کی تعبیر چکھنے کی حس کے ضائع ہو جانے سے بھی کی جاتی ہے۔

فوری خلاصہ

چیونگم چبانا: قبیح اور ناپسندیدہ گناہوں کا ارتکاب، یا لواطت میں مبتلا ہونا۔

گفتگو اور تنازع: بہت زیادہ باتیں کرنا، کسی بات کی مسلسل شکایت کرنا، کسی بڑے تنازع میں پڑنا، یا بحث جاری رکھنا۔

حسِ ذائقہ: چکھنے کی حس کھو دینا۔

مختلف صورتیں

مختلف احوال و کیفیات کی تعبیر

قبیح گناہوں اور لواطت کی تعبیر

خواب میں چیونگم چبانے کا عمل سنگین اخلاقی خرابیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کی تعبیر گھناؤنے اور ناپسندیدہ گناہوں کے ارتکاب سے کی گئی ہے۔ نیز اس خواب کا مفہوم عملِ قومِ لوط (لواطت) میں مبتلا ہونا بھی بیان کیا گیا ہے۔ ماخذ اس تعبیر کے ضمن میں یہ وجہ بیان کرتا ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم گوند یا چیونگم چبانے کی عادی تھی۔

بڑا تنازع یا طویل بحث

اگر کوئی شخص خواب میں خود کو چیونگم چباتے ہوئے دیکھے، تو یہ اس کی گفتگو اور میل جول کے منفی پہلوؤں کو بھی ظاہر کر سکتا ہے:

◉  یہ خواب حد سے زیادہ اور غیر ضروری گفتگو کرنے کی عادت کی نشاندہی کرتا ہے۔

◉  کسی بات پر مسلسل شکوہ و شکایت کرتے رہنے کا رویہ ظاہر کرتا ہے۔

◉  کسی بڑے تنازع، اختلاف یا شدید جھگڑے میں ملوث ہونے کی طرف اشارہ ہے۔

◉  کسی بحث و مباحثے کو مسلسل جاری رکھنے یا بلاوجہ تکرار کو کھینچنے کی علامت ہے۔

حسِ ذائقہ کا ضیاع

ابن سیرین سے منسوب حوالہ جات میں اس خواب کی ایک جسمانی تعبیر یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس سے مراد انسان کے چکھنے کی قوت کا ختم ہونا یا ذائقے کی حس کا ضائع ہو جانا ہو سکتا ہے۔

ماخذ

Ibn Seerin's Dictionary of Dreams — Chewing gum — Page 79

یاد رہے: خواب کی تعبیر قطعی علم نہیں۔ ایک خواب کی تعبیر حالات اور سیاق کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے، اس لیے اہم فیصلے صرف خواب کی بنیاد پر نہ کریں۔